گھر میں بچوں کے لیے قرآن سیکھنے کا بہترین روزانہ کا معمول
گھر میں بچوں کے لیے قرآن سیکھنے کا بہترین روزانہ کا معمول
بچوں کی تعلیم میں قرآن پاک کی تعلیم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اگر بچے کو گھر ہی میں قرآن سیکھنے کے لیے مناسب ماحول اور باقاعدہ وقت مل جائے تو اس کے لیے قرآن کی تعلیم ایک مشکل کام کے بجائے روزمرہ زندگی کا خوبصورت حصہ بن سکتی ہے۔
والدین کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ بچہ ایک ہی دن میں بہت زیادہ سبق مکمل کر لے، بلکہ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ بچہ مستقل مزاجی کے ساتھ قرآن سیکھتا رہے اور اس کے ساتھ محبت اور دلچسپی بھی پیدا ہو۔
بچوں کے لیے مناسب وقت مقرر کریں
بچے کے لیے قرآن سیکھنے کا ایک مقررہ وقت طے کرنا بہت مفید ہوتا ہے۔ یہ وقت بچے کی عمر، اسکول کے اوقات اور گھر کے معمول کے مطابق رکھا جا سکتا ہے۔
مثلاً روزانہ:
صبح اسکول سے پہلے مختصر سبق
عصر یا مغرب کے بعد قرآن کی مشق
سونے سے پہلے چند آیات کی تکرار
ہر بچے کے لیے ایک ہی وقت ضروری نہیں۔ اصل چیز یہ ہے کہ ایسا وقت منتخب کیا جائے جس میں بچہ ذہنی طور پر پرسکون ہو۔
سبق کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں
چھوٹے بچوں کو ایک ساتھ بہت زیادہ سبق دینا ان کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ سبق کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا جائے۔
مثلاً ایک دن چند نئے الفاظ یا چند سطریں سکھائیں اور اگلے دن نئے سبق سے پہلے پچھلے سبق کو ضرور دہرائیں۔
اس طریقے سے بچے پر غیر ضروری دباؤ نہیں پڑتا اور اسے اپنی پیش رفت بھی محسوس ہوتی رہتی ہے۔
روزانہ پچھلا سبق ضرور دہرائیں
قرآن سیکھنے میں repetition یعنی تکرار بہت اہم ہے۔ صرف نیا سبق یاد کرنا کافی نہیں، بلکہ پہلے پڑھے ہوئے سبق کو بھی وقتاً فوقتاً دہراتے رہنا چاہیے۔
ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ روزانہ کے وقت کو تین حصوں میں تقسیم کر لیا جائے:
اس معمول سے بچے کو اپنی غلطیاں سمجھنے اور انہیں درست کرنے کا موقع ملتا ہے۔
بچے کو ڈانٹنے کے بجائے حوصلہ دیں
بچوں کے ساتھ قرآن کی تعلیم کے دوران والدین کا رویہ بہت اہم ہوتا ہے۔ اگر بچہ بار بار غلطی کرے تو اسے مسلسل ڈانٹنے کے بجائے محبت سے درست کرنے کی کوشش کریں۔
بچے کی چھوٹی سی کامیابی پر بھی اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ مثال کے طور پر اگر اس نے آج کل کی نسبت بہتر پڑھا ہے تو اسے بتائیں کہ اس کی تلاوت میں بہتری آئی ہے۔
حوصلہ افزائی بچے کے اندر سیکھنے کی خواہش کو مضبوط کرتی ہے۔
گھر میں قرآن کے لیے پرسکون ماحول بنائیں
اگر ممکن ہو تو گھر میں ایک ایسی جگہ مقرر کریں جہاں بچہ سکون سے قرآن پڑھ سکے۔ اس جگہ پر غیر ضروری شور یا موبائل کی مصروفیت کم رکھیں۔
والدین خود بھی قرآن کی تلاوت کریں تو بچے کے لیے عملی مثال قائم ہوتی ہے۔ بچے صرف نصیحت سے نہیں بلکہ بڑوں کے عمل سے بھی بہت کچھ سیکھتے ہیں۔
موبائل اور دیگر مصروفیات کا توازن
آج کے دور میں بچوں کا کافی وقت موبائل، ویڈیوز اور گیمز میں گزر جاتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچے کے روزانہ معمول میں قرآن کے لیے بھی مستقل وقت مقرر کریں۔
ضروری نہیں کہ موبائل مکمل طور پر بند کر دیا جائے۔ بہتر یہ ہے کہ بچے کے لیے واضح معمول بنایا جائے جس میں تعلیم، کھیل، آرام اور قرآن سب کے لیے مناسب وقت موجود ہو۔
ہفتے میں ایک دن جائزہ لیں
ہفتے کے آخر میں بچے کے پورے ہفتے کے سبق کا مختصر جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر یہ دیکھا جا سکتا ہے:
بچے نے کیا نیا سیکھا؟
کون سا سبق ابھی مشکل ہے؟
کن الفاظ میں زیادہ غلطی ہوتی ہے؟
پچھلا سبق کتنا یاد ہے؟
اگلے ہفتے کس چیز پر زیادہ توجہ دینی ہے؟
اس طرح والدین کو بچے کی progress کا اندازہ بھی ہوتا رہتا ہے۔
بچے کی عمر کے مطابق توقعات رکھیں
ہر بچے کی سیکھنے کی رفتار مختلف ہوتی ہے۔ ایک بچے کو کوئی سبق جلدی سمجھ آ سکتا ہے جبکہ دوسرے بچے کو زیادہ وقت درکار ہو سکتا ہے۔
اس لیے بچوں کا آپس میں موازنہ کرنے کے بجائے ہر بچے کی اپنی ترقی کو دیکھنا بہتر ہے۔ قرآن سیکھنے کا مقصد صرف رفتار نہیں بلکہ صحیح اور مستقل تعلیم ہے۔
ایک آسان روزانہ کا نمونہ
اگر آپ گھر میں ایک سادہ معمول بنانا چاہتے ہیں تو اس طرح شروع کر سکتے ہیں:
ضرورت کے مطابق اس وقت کو کم یا زیادہ کیا جا سکتا ہے۔ چھوٹے بچوں کے لیے مختصر وقت بھی کافی ہو سکتا ہے، بشرطیکہ یہ معمول باقاعدگی سے جاری رہے۔
آخر میں
بچوں کو قرآن پاک سکھانا ایک خوبصورت ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے سب سے زیادہ ضرورت مستقل مزاجی، صبر، محبت اور مناسب رہنمائی کی ہے۔
اگر گھر میں روزانہ تھوڑا سا وقت بھی قرآن کے لیے مقرر کر لیا جائے اور والدین بچے کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں تو ان شاء اللہ بچے کے اندر قرآن سیکھنے کی عادت پیدا ہو سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے بچوں کو قرآن پاک پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور والدین کی اس کوشش کو قبول فرمائے۔ آمین۔

Comments
Post a Comment